باہَر نِکَل پڑیں۔ جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنا عامِر اَشْہَلِیَّہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: جب ہمیں سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی خَبَر ملی تو اس وقْت ہم اپنے مقتولین پر رو رہی تھیں،چنانچہ ہم رونا چھوڑ کر سب کی سب باہَر نِکَل آئیں اور جب میں نے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو دیکھا تو بے ساختہ میری زبان سے یہ اَلفاظ جارِی ہوگئے: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ کے ہوتے ہر مصیبت ہیچ ہے۔ 1
سرکار ہی دلوں کا سرور ہیں
حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ سَعْد کَبْشَہ بِنْت رَافِع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو جب حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی آمد کی خَبَر ہوئی تو آپ دوڑتی ہوئی بارگاہِ رِسَالَت میں پہنچیں ، اس وَقْت حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے گھوڑے پر جَلْوَہ گَر تھے جس کی لگام آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے بیٹے حضرت سَیِّدُنا سَعْد بن مُعاذ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ تھامے ہوئے تھے، انہوں نے (اپنی والِدہ کو یوں بارگاہِ رِسَالَت میں آتے دیکھا تو)عَرْض کی: یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ میری ماں ہیں۔ تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں خوش آمدید کہا۔ پھر اُمّ سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا مزید قریب ہوئیں تو ٹکٹکی باندھے حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دِیدار کی دولت سے اپنی نِگاہوں کو
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… کتاب المغازی للواقدی، غزوة احد، تسمية من قتل المشرکین، ۱/۳۱۵ ملتقطًا