آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کےبخیرو عَافِـیَّت ہونے کی خَبَر ملنے کے باوُجُود وہ
رُکی نہیں بلکہ آگے بڑھتی گئیں اور آخِر کار جب رُخِ اَنْوَر پر نَظَر پڑی تو بے قَرار ہو کر فَرْطِ مَحبَّت میں دامَنِ مصطفےٰ کو تھام لیا اور عَرْض کرنے لگیں: اے اللہ کے رسول ! میرے ماں باپ آپ پر قربان !جب آپ سَلامَت ہیں تو مجھے کسی اور کی کوئی پروا نہیں ہے۔ 1
تسلی ہے پناہِ بیکساں زِندہ سَلامَت ہے
کوئی پَروا نہیں سارا جَہاں زندہ سَلامَت ہے2
دیدارِ سرکار کی خوشی میں رونا بھول گئیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!یہ تین۳ واقعات ان صحابیات کے تھے جو شیطانی اَفواہ سن کر اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکیں اور گھروں سے نِکَل پڑیں مگر جن صَحابیات کے جذبات قابو میں تھے اور وہ گھروں سے نہ نکلیں،ان کے دِلوں کو بھی قرار نہ تھا، لہٰذا جب انہیں مَعْلُوم ہوا کہ میدانِ اُحد سے واپَسی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی بستی سے گزر رہے ہیں تو گھروں میں اپنے شُہَدا کے لاشوں پر رونے والی یہ صَحابیات دُکھی دِلوں کے چین، سَرْوَرِ کونین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بے قرار ہوکر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… المواهب اللدنیه ، المقصد السابع، الفصل الاول فی وجوب محبته ، ۲/۴۸۰مفهوماً
2 ……… جنتی زیور، ص ۵۰۵