رہی کہ یہ بتاؤ ! میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں؟ جب اسے بتایا گیا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ!آپ ہر طرح بخیریت ہیں توبھی اس بڑھیا کی تَسَلّی نہیں ہوئی اور کہنے لگی :تم لوگ مجھے رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دِیدار کرا دو۔ جب لوگوں نے اس کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب لے جا کر کھڑا کر دیا اور اس نے جَمال ِ نُبوت کو دیکھا تو بے اِخْتِیار اس کی زبان سے یہ جُملہ نِکَل پڑا:کُلُّ مُصِیْبَةٍ بَعْدَكَ جَلَلٌ آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے۔
بڑھ کر اُس نے رُخِ اَنْوَر کو جو دیکھا تو کہا!
تو سَلامَت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رَنْج و اَلَم
میں بھی اور باپ بھی شوہَر بھی بَرادَر بھی فِدا
اے شہہ دیں!تِرے ہوتے کیا چیز ہیں ہم1
سرکار کی سلامتی پر سب کچھ قربان
اسی طرح کی ایک رِوایَت میں ہے کہ عِشْقِ رسول سے سرشار ایک اَنصاری صَحابیہ جب گھر سے نِکَل کر میدانِ جنگ کی طرف روانہ ہوئیں تو راستے میں انہیں دِل لرزا دینے والے مَناظِر کا سامنا کرنا پڑا، کہیں بھائی اور بیٹےکے لاشے کو دیکھا تو کہیں شوہَر اور باپ کی مَیِّت پڑی دیکھی مگر وہ عاشِقہ صَحابیہ بغیر پروا کیے آگے بڑھتی جاتیں اور یہی پوچھتی جاتیں: میرے مَحْبُوب، میرے آقا و مولا کیسے ہیں؟
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… سیرت مصطفیٰ،ص۸۳۲ بحوالہ السیرة النبوية ، غزوہ احد، تحریض عمر لحسان…الخ،۳/۴۷