Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
16 - 62
بھائی اور شوہر کی شہادت پر ناز
عِشْقِ سرورِ کائنات میں تڑپتی دیوانہ وار میدانِ اُحد کی طرف جانے والی ان صحابیات  میں سے ایک عاشِقہ صَحابیہ کی نَظَر ایک اُونْٹ پر پڑے دو۲مقتولوں پر  پڑی تو انہوں نے پوچھا:یہ کون ہیں؟ وہاں مَوجُود صَحابۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے بتایا کہ ایک تیرا بھائی اور دُوسْرا تیرا شوہَر ہے۔فرمانے لگیں:مجھے یہ بتاؤ میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کیسے ہیں؟ جب انہیں بتایا گیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خیر وعَافِـیَّت سے ہیں تو فرمانے لگیں: اب مجھے کسی کی پروا نہیں اور جہاں تک میرے بھائی اور شوہر کی بات ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے بندوں کو شَہادَت کا مَرتَبہ عَطا فرماتا ہے۔چنانچہ انکے اسی قول کی تائید میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  نے یہ آیتِ مُبارَکہ نازِل  فرمائی:
وَیَتَّخِذَ مِنۡکُمْ شُہَدَآءَؕ (پ۴، اٰل عمران:۱۴۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شَہادَت کا مرتبہ دے۔ 1
قبیلہ بنی دینارکی بڑھیا
قبیلہ بنی دِینار کی ایک عورت اپنے جذبات سے مَغْلُوب ہو کر اپنے گھر سے نِکَل کر میدانِ جنگ کی طرف چل پڑی، راستے میں اس کو اپنے باپ، بھائی اور شوہَر کی شَہادَت کی خَبَر ملی مگر اس نے کوئی پَروا نہیں کی اور لوگوں سے یہی پوچھتی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… سبل الھدی، الباب الثالث عشرفی غزوة احد، ذکر رحیل النبی …الخ، ۴/۳۳۵