کی طرف چلتے ہیں ، شرکائے مدنی قافلے میں سے ایک اسلامی بھائی نے عاجزی سے عرض کی یارسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمجنت میں ہم کیسے داخل ہوں گے ؟ آپ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا : میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ ، چنانچہ غوث ِپاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنہ اور امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اورمدنی قافلے والے سرکار صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پیچھے چلنے لگے ، یہاں تک ہم جنت کے باغات میں داخل ہوگئے ، جن میں بہت سے پھل لگے ہوئے تھے ،یہ منظر دیکھ کر مدنی قافلے والے خوشی سے جھومنے لگے اور جنتی درختوں کے پھل کھانے لگے ، جبکہ آقا صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمغوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکو اپنے ارشادات سے نوازنے کے بعد تشریف لے گئے، پھر غوثِ پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے مدنی قافلے والوں سے فرمایا: آؤ اب ہم مدینے حاضری دینے چلتے ہیں ، پھر ہم سب مدینہ منوّرہ روانہ ہوگئے، مدینے پہنچ کر غوث پاک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی تشریف لے گئے اور ہم امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکے ہمراہ عالمی مدنی مرکز فیضانِ مدینہ پہنچ گئے، میں ان نظاروں میں گم تھا کہ فجر کی نماز کا وقت ہوگیا ، اذان کی آواز میری سماعت سے ٹکرانے لگی اور میں بیدار ہوگیا، خواب کے دلکش نظارے آنکھوں میں نقش تھے اورمیں خوشی سے جھوم رہاتھا ، جب یہ مبارک خواب