Brailvi Books

روحانی منظر
25 - 32
 حدیث سننے کے لئے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پاس آیا ہوں ، مجھے خبر ملی ہے کہ آپ اس حدیث کو رسول اللّٰہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے روایت کرتے ہیں میں کسی اور ضرورت سے یہاں نہیں آیا ہوں ، یہ سن کر حضرت ابوالدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے کہا کہ بے شک میں نے رسول اللّٰہ  کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جو شخص علم کی طلب میں کوئی راستہ چلے گا تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس کو جنت کے راستوں میں سے ایک راستہ پر چلائے گااور بے شک فرشتے طالبِ علم کی خوشی کے لئے اپنے بازوؤں کو بچھادیتے ہیں اور بے شک عالم کے لئے آسمانوں اور زمینوں کی تمام چیزیں اور مچھلیاں پانی کے اندر مغفرت کی دعا کرتی ہیں اور یقینا عالم کی فضیلت عابد کے اوپر ایسی ہی ہے جیسے کہ چودھویں رات کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر ہے اور یقین رکھو کہ علماء انبیاء عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکے وارث ہیں اور انبیاء عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی میراث دینار و درہم نہیں ہیں ، انبیاء عَلَیْھِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی میراث تو علم ہی ہے تو جس نے اس کو لیا اُس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔(ابو داود، کتاب العلم،باب الحث علی طلب العلم،۳/۴۴۴،حدیث:۳۶۴۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد