اسلامی بھائی پر کیسا کرم ہوا، خواب میں آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دیدار کا جام پینے کے ساتھ ساتھ سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اورامیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اورحاجی مشتاق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِکی زیارت کا شرف بھی حاصل کرلیا، اس خواب کی برکت سے جہاں ایک کافر مسلمان ہوگیا وہیں ان کے دل میں دعوتِ اسلامی کا محبت گھر کر گئی اور یہ ایک ماہ کے اعتکاف میں بیٹھ گئے اور حصول علم دین کا ایسا جذبہ ملا کہ دعوتِ اسلامی کے جامعۃ المدینہ میں داخل ہوکر نور ِعلم سے روشن ہونے کا عزم کرلیا ۔
یاد رکھئے! حصولِ علمِ دین’’ جنت میں لے جانے والے اعمال‘‘ میں سے ایک بہت ہی مبارک عمل ہے، علمِ دین سے جہاں جہالت کی تاریکیاں دور ہوتی ہیں وہیں درست طریقے سے عبادت کی ادائیگی کی توفیق ملتی ہے اور عقائد و اعمال کی اصلاح ہوتی ہے، ہمارے اسلاف علمِ دین کے حقیقی قدردان تھے ، حصولِ علم کے لیے دور دراز کے سفر طے کرنے کے جذبے سے سرشار تھے۔ چنانچہ،
کثیر بن قیس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے انہوں نے کہا کہ میں حضرت ابوالدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکے پاس دمشق کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا تو ایک آدمی آیا اور کہا کہ اے ابوالدرداء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہمیں مدینہ منورہ سے ایک