کے ساتھ ساتھ تہجد کی نماز کی بھی بھرپور ترغیب دلائی جاتی ہے ۔یہ قُربِ الٰہی پانے کا اہم ترین ذریعہ ہے یہی وجہ ہے کہ تمام اولیاءے کاملین اس نماز کے پابند ہوتے ہیں ، احادیث میں اس کی ڈھیروں ڈھیر برکات بیان کی گئی ہیں ۔ چنانچہ ،
حضرت عبداللّٰہ بن سلام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہسے مروی ہے انہوں نے کہا کہ جب نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ میں تشریف لائے تو میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس آیا پھر جب میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ کو غور سے دیکھا تو میں نے پہچان لیا کہ آپ کا چہرہ کسی جھوٹے آدمی کا چہرہ نہیں ہے۔ پھر سب سے پہلا قول جوآپ نے فرمایاوہ یہ تھاکہ اے لوگو!تم سلام کاچرچا کرو!(یعنی سلام کو عام کرو!)اورکھاناکھلاؤ!اوررشتہ داروں کے ساتھ اچھا سلوک کرو! اور راتوں کو جب سب لوگ سورہے ہوں تو تم نمازیں پڑھو! تم ایسا کرو گے تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ ترمذی اور ابن ما جہ نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔(مشکاۃ،کتاب الزکاۃ،باب فضل الصدقۃ،۱/۳۶۲،حدیث:۱۹۰۷)
نوٹ :نماز تہجد کا وقت :نمازعشاپڑھ کرسونے کے بعدصبحِ صادق طلوع ہونے سے پہلے جس وقت آنکھ کھلے اٹھ کر نوافل پڑھنانمازتہجد ہے۔(ماخوذ از فتاوی رضویہ، ۷/۴۴۶)