Brailvi Books

راہِ سنت کامسافر
21 - 32
ہوئی جنہوں نے مجھے 63روزہ مدنی تربیتی کورس میں شرکت کرنے کی ترغیب دلائی، اُس اسلامی بھائی کی انفرادی کوشش کا اندازاتنا بھلا تھا کہ میں انکار نہ کرسکا، اور اس مدنی تربیتی کورس میں وقتِ مقررہ پر حاضر ہوگیا،جہاں میری سوچ و فکر کا محور ہی بدل گیا ، مقصدِ حیات مجھ پر منکشف ہوگیا، کرم بالائے کرم یہ کہ عاشقانِ رسول کی بابرکت صحبت کی بدولت میں نے داڑھی شریف رکھنے کے ساتھ ساتھ عمامہ شریف کا تاج بھی سجالیا۔ ماں باپ کی نافرمانی اور دیگر تمام ناجائز کاموں سے پکی سچی توبہ کرلی۔ نیزسنتوں کے مطابق زندگی گزارنے کا عہد کرلیا،شیخِ طریقت  امیر اہلسنّت حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی غلامی اختیار کرتے ہوئے میں نے بھی اپنا یہ مدنی مقصد بنالیا ہے کہ’’ مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے‘‘ مزید یہ نیّت بھی کی ہوئی ہے کہ گھر جاکر سب سے پہلے اپنی پیاری امی جان کے پاؤں اور والد صاحب کے ہاتھ چوموں گا، ان سے گڑگڑاکر معافی کی بھیک طلب کروں گا، چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا ادب کروں گا، ہرماہ 3دن مدنی قافلے میں سفر کروں گا، مسجد درس ، چوک درس کے ذریعے نیکی کی دعوت عام کروں گا،اللّٰہ عَزَّوَجَلَّامیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی غلامی اور دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں استقامت عطا فرمائے ، جسکی بدولت میں