Brailvi Books

راہِ سنت کامسافر
13 - 32
 محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز کتاب ’’غیبت کی تباہ کاریاں ‘‘ کے صفحہ نمبر63پرتحریر کرتے ہیں : بدمذہب سے دینی یا دنیاوی تعلیم لینے کی مُمانَعَت کرتے ہوئے میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت ، مولانا شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :غیر مذہب والیوں (یاوالوں )کی صُحبت آگ ہے، ذی عِلم عاقِل بالِغ مردوں کے مذہب (بھی) اس میں بگڑ گئے ہیں ۔ عمران بن حطان رقاشی کا قصّہ مشہور ہے، یہ تابِعین کے زمانہ میں ایک بڑامُحدِّث تھا ،خارِجی مذہب کی عورت (سے شادی کرکے اس) کی صُحبت میں (رہ کر) مَعَاذَاللّٰہ خود خارِجی ہو گیا اور یہ دعویٰ کیا تھا کہ(اس سے شادی کر کے)اُسے سُنّی کرنا چاہتا ہے ۔ (یہاں وہ نادان لوگ عبرت حاصِل کریں جو بَزُعمِ فاسِد خود کو بَہُت ’’پکّاسُنّی‘‘تصوُّر کرتے اور کہتے سنائی دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے مسلک سے کوئی ہِلا نہیں سکتا، ہم بَہُت ہی مضبوط ہیں !)میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں :جب صُحبت کی یہ حالت (کہ اتنا بڑا محدِّث گمراہ ہو گیا)تو (بدمذہب کو)اُستاد بنانا کس دَرَجہ بدتر ہے کہ اُستاد کا اثر بَہُت عظیم اور نہایت جلد ہوتا ہے ، تو غیر مذہب عورت(یا مرد)کی سِپُردگی یا شاگِردی میں اپنے بچّوں کو وُہی دے گا جو آپ(خودہی)دین سے واسِطہ نہیں رکھتا اور اپنے بچّوں کے بَددین ہو جانے کی پرواہ نہیں رکھتا۔(فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۹۲)