وابستہ ہونے سے پہلے میرا تعلق بد مذہب گروہ سے تھا، بڑے بھائی عقائد کی صحیح معلومات نہ ہونے کی بنا پر بد مذہبوں کی صحبت میں اُٹھتے بیٹھتے تھے، ان کی تقاریر شوق سے سنتے اور ان کی پیچھے نماز پڑھتے تھے، مجھے بھی بدعقیدہ لوگوں کی مسجد میں نماز پڑھنے کا کہتے کہ وہاں تقریر اچھی ہوتی ہے وہاں نماز پڑھنے جایا کرو! یوں بھائی جان کے کہنے پر میں بھی بدمذہب کے پیچھے نمازِ جمعہ پڑھنے جانے لگا اسی دوران بھائی جان کو نیوی میں ملازمت مل گئی اور وہ باب المدینہ کراچی آگئے ۔ وہاں دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول سے ان کی ملاقات ہوگئی ،جن کی انفرادی کوشش کی برکت سے میرے بڑے بھائی دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے ،رفتہ رفتہ عاشقانِ رسول کی صحبت رنگ لانے لگی انہوں نے اپنا چہرہ سنّتِ رسول سے مزین کرلیا،ایک عرصہ کے بعد جب وہ گھر آئے تو اپنے ہمراہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اور مرکزی مجلسِ شوریٰ کے نگران حضرت مولانا حاجی ابوحامد محمد عمران عطاری مُدَّظِلُّہُ العَالِی کے بیانات کی vcdلے کر آئے ، خوش قسمتی سے بین الاقوامی سنّتوں بھرے اجتماع کی وی سی ڈی دیکھی جس میں رقت انگیز دعا کے روح پرور مناظر تھے ،اسے دیکھ کر میں دعوتِ اسلامی سے بے حد متأثر ہوا ، اتفاق سے ان دنوں