مجھ سے حضرتِ سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا کہ ’’میں دیکھتا ہوں کہ تم جانوروں اور جنگل میں رہنے کو پسند کرتے ہو، لہٰذا جب تم جنگل میں ہواکرو اور نَماز کے لئے اذان دو تو بلند آواز کے ساتھ اذان دیا کرو کیونکہ مؤذِّن کی آواز کو جو کوئی جن یاانسان یا دوسری چیزسنے گی وہ قیامت کے دن اس کے لئے گواہی دے گی ۔‘‘حضرت سیدنا ابو سَعِیْد خُدْرِی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ میں نے یہ بات رحمتِ عالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے سنی۔ (بخاری،کتاب الاذان،باب رفع الصوت با لندائ،۱/ ۲۲۲،حدیث:۶۰۹)
حضرتِ سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم، رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا کہ آواز کی انتہا تک مؤذن کی مغفرت کردی جاتی ہے اور ہر خشک وترچیز اس کے لئے گواہی دے گی ۔ایک روایت میں یہ اضافہ ہے،اسے اپنے ساتھ نَماز پڑھنے والوں کے ثواب کی مثل ثواب ملے گا ۔( ابو داؤد،کتاب الصلوۃ،با ب رفع الصوت بالاذان،۱/۲۱۸،حدیث:۵۱۵)
{4} بد عقیدگی سے بچ گیا
فتح جنگ (ضلع اٹک ، پنجاب، پاکستان)محلہ کرم خان کے مقیم اسلامی بھائی کا بیان خلاصۃً پیشِ خدمت ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول سے