Brailvi Books

قسط 7: سفرِ حج کی اِحتیاطیں
26 - 31
 رَگیں کاٹ دیتے ہیں یا ذَبح کرتے ہوئے ہڈی پر چھری مارتے ہیں تو انہیں اس سے بچنا ضَروری ہے ۔  خُدا ناخواستہ مَرنے کے بعد یہی جانور مُسَلَّط کر دیا گیا تو پھر کیا بنے گا؟  
قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا کیسا؟
سُوال : قربانی کے بعض جانوروں کے جسم پر بہت بڑے بڑے بال ہوتے ہیں ، انہیں  ذَبح کرتے وقت اگر دُشواری ہو رہی ہو تو کیا  ان بالوں کو  کاٹ سکتے ہیں؟ اگر کسی نے وہ  بال  کاٹ دیئے تو ان بالوں کا کیا حکم ہے ؟ 
جواب : قربانی کے جانور کے بال اور اُون وغیرہ کاٹنا مکروہ ہے ۔ اگر کسی نے بال یا اُون وغیرہ  کاٹ دی تو ان چیزوں کونہ تو وہ  اپنے اِستعمال مىں لا سکتا ہے اور  نہ ہی  کسى غنى کو دے سکتا ہے بلکہ ان بالوں اور اُون وغیرہ کو کسی شَرعی فقىر پر صَدَقہ کرنا ہو گا ۔ () رہی بات ذَبح کے وقت دُشواری پیش آنے کی تو اس کے لیے پورے بَدن کے بال کاٹنا تو دُور کی بات گلے کے بال کاٹنے  کی بھی ضَرورت نہیں بلکہ گلے پر پانی وغیرہ ڈال کر جگہ بنائی جا سکتی ہے ۔   
بے وضو یا بے نمازی کا ذبیحہ
سُوال  : قَصّاب عموماً بے وضو ، بے نمازی اور داڑھی منڈے ہوتے ہیں تو کیا ان سے جانور  ذَبح کروانا دُرُست ہے ؟ نیز جانور کو ذَبح کرنے کے حوالے سے چند مَدَنی 



________________________________
1 -    بہارِ شریعت ، ۳ / ۳۴۷ ، حصّہ : ۱۵ماخوذاً مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی