Brailvi Books

قسط 7: سفرِ حج کی اِحتیاطیں
25 - 31
 کے نفع پر نظر رکھے اور اس کے لیے کوشش بھی کرتا  رہے ۔   
شکنجے میں جکڑ کر جانور  ذَبح کرنا کیسا؟
سُوال : یورپین ممالک میں چھوٹے جانور کو ذَبح کرنے کے لیے مخصوص شکنجے میں جکڑا جاتا ہے تاکہ  رَسیوں سے باندھنے اور پکڑنے کی مشقت سے بچا جا سکے ، ایسا کرنا کیسا ہے ؟ 
جواب : بکرے اور دُنبے وغیرہ  کو مخصوص شکنجے میں جکڑ کر ذَبح کرنے میں اور تو کوئی حَرج نہیں لیکن ایک سُنَّت تَرک ہو جاتی ہے  وہ یہ کہ ذَبْح کرنے والا اپنا دایاں (یعنی سیدھا) پاؤں جانور کی گردن کے دائیں (یعنی سیدھے ) حصّے (یعنی گردن کے قریب پہلو) پر رکھے اور ذَبْح کرے ۔ اَلبتہ اس شکنجے کے ذَریعے جکڑنے میں ایک  فائدہ بھی ہے کہ جانور کئی غیرضَروری تکالیف سے بچ جاتا ہے مثلاً بعض لوگ بکرے کو اُٹھا کر پٹختے ہیں یا پتھریلی زمین پر گراتے ہیں جو یقیناً بِلاوجہ کی اِیذا ہے لیکن اِس مخصوص شکنجے کے ذَریعے لٹانے میں یہ دونوں تکالیف نہیں ہوں گی ۔  نیز اِس شکنجے کی ہیئت ایسی ہے کہ جانور کو لٹا کر پیٹ سے جکڑ  لیا جاتا ہے اور پاؤں آزاد ہوتے ہیں  تو یہ طبی لحاظ سے بھی اچھا ہے اس لیے کہ جانور جتنا زیادہ ہاتھ پاؤں مارے گا اتنا ہی مُضِر صحت خون بہہ جائے گا ۔ بہرحال شکنجے میں کَس کر ذَبح کریں یا رَسیوں سے باندھ کر ، جانور کو بے جا تکلیف دینے کی ہرگز اِجازت نہیں ۔  جو لوگ بکرے کی گردن چٹخا دیتے ہیں یا بڑے جانور کی چھرا گھونپ کر دِل کی