کرتے ہیں ۔ یوں چند پیسوں کی خاطراتنا مہنگا جانور لانے کے باوجود پہلے دِن قربانی کرنے کی فضیلت پانے سے خود کو محروم کر دیتے ہیں ۔ پہلے دِن قَصّاب کا زیادہ رَقم لینا اگرچہ نفس پر گِراں گزرتا ہے مگر ہمیں اپنا یوں ذہن بنانا چاہیے کہ جو نیک عمل نفس پر جتنا زیادہ گِراں گزرتا ہے اس کا ثواب بھی اتنا ہی زیادہ عطا کیا جاتا ہے ۔ ()
یاد رکھیے !عِیْدُ الْاَضْحٰی کے دِن جانور ذَبح کرنے سے افضل کوئی عمل نہیں ہے ۔ لہٰذا کوئی مجبوری نہ ہو تو پہلے دِن ہی قربانی کی جائے اگرچہ کچھ رَقم زیادہ خرچ ہو گی لیکن اس کو نقصان نہ سمجھا جائے بلکہ اس کے عِوض آخرت میں ملنے والے عظیم ثواب پر نظر رکھی جائے ۔ اگر کسی کے گھر میں دوسرے یا تیسرے دن دَعوت ہوتی ہے اس وجہ سے وہ پہلے دِن قربانی نہیں کرتا تو اُسے چاہیے کہ پہلے دِن قربانی کرکے اس کا گوشت فریج میں رکھ دے اور اگلے دن دَعوت میں اِستعمال کر لے کیونکہ ایک دو دِن میں گوشت کے ذائقے میں کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ فقط لذّتِ نفس کے لیے پہلے دِن قربانی کے عظیم ثواب سے محروم ہو جانا دانش مندی نہیں بلکہ محرومی ہے ۔ جس طرح تاجِر مال کے نفع پر نظر رکھتا ہے اِسی طرح ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ مال کے نفع سے زیادہ نیکیوں
________________________________
1 - 2 حضرتِ سَیِّدُنا اِبراہيم بِن اَدھَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْاَکْرَم فرماتے ہيں : دُنيا ميں جو عمل جتنا دُشوار ہو گا بروزِ قيامت ميزانِ عمل ميں اُتنا ہی زيادہ وَزن دار ہو گا ۔ (تذکرة الاولیا ، ۱ / ۹۵ اِنتشاراتِ گنجینه تهران)