Brailvi Books

قسط 7: سفرِ حج کی اِحتیاطیں
21 - 31
	 اِیماندار بیوپاریوں پر بھی اِس لیے اِعتماد نہیں کرتے کہ دودھ کا جَلا چھاچھ پُھونک پُھونک کر پیتا ہے ۔   
اگر بیوپاری  باشرع اور نیک آدمی ہے اور وہ کہتا ہے کہ جانور کی عمر پوری ہے ، گاہک کو اس پر اِعتماد ہے  کہ وہ جانور کی عمر بتانے میں جھوٹ نہیں بول رہا   تو اس صورت میں اگر گاہک نے اُس سے جانور خرید کر قربانی کر لی تو اس کی  قربانی ہو جائے گی اگرچہ دانت نہ نکلے ہوں ۔  بہتر یہ ہے کہ قربانی کا جانور چاہے وہ گائے ہو یا بکرا چار دانت کا ہونا چاہیے ، بکرا اگر چار دانت کا ہو تو اس کا گوشت عمدہ ہوتا ہے مگر ہمارے یہاں دو دانت کی رَسم چل پڑی ہے  ۔ جانور خَریدنے والے بھی دو دَانت کا مُطالبہ کرتے ہیں اور بیوپاری بھی دو دَانت کی صَدائیں لگاتے ہیں ۔  بسااوقات جانور آٹھ دانت (یعنی بڑی عمر) کا ہوتا ہے مگر بیوپاری خَریدار کو  صِرف دو دانت نُمایاں طورپر دِکھاتے ہیں اور بقیہ دانت  اپنی اُنگلیوں سے چھپا لیتے ہیں اور پھر فوراً جانور کا مُنہ بند کر دیتے ہیں ۔  رہی بات یہ  کہ جس جانور کے کم عمری کی وجہ سے  دانت نہیں نکلے ہوتے لوگ اسے آدھی قیمت میں  خَرید لیتے ہیں تو یہ آدھی قیمت پر خَریدنے والے  شاید گوشت فروش ہوتے ہوں گے جو ایسے جانوروں کو قربانی کے لیے نہیں بلکہ ذَبح کر کے ان کا  گوشت بیچنے کے لیے خرید لیتے ہوں گے ۔