Brailvi Books

قسط 7: سفرِ حج کی اِحتیاطیں
18 - 31
ہے کہ کم عمر جانور کسی کے کامل کہہ دینے سے کامل نہیں ہو  جاتا اور نہ ہی  ان کا حَرم میں ایسا کہنا ان کی سچائی کی دَلیل  بن سکتا ہے ۔  حجاجِ کرام کو چاہیے کہ بیچنے والوں کی باتوں میں آنے کے بجائے جانوروں کے کان ، دُم  اور عمر وغیرہ سب اچھی طرح جانچ کر ہی جانور خَریدیں اگرچہ کچھ مہنگا ملے ۔ دو پیسے بچانے کے لیے اپنی قربانی کو داؤ پر نہ لگائیں ۔  معمولی عیب ہونے کی صورت میں اگرچہ قربانی ہو جائے گی مگر ذرا غور تو کیجیے کہ جب ہم اپنی زندگی میں اچھے سے اچھا کھاتے ، مہنگے سے مہنگا سوٹ پہنتے اورعمدہ سے عمدہ گاڑی اِستعمال کرتے ہیں تو پھر اللہ  پاک کی راہ میں کیوں نہ سب سے  اچھے ، عمدہ اور بیش بہا جانور کی  قربانی پیش  کریں ۔  پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے صَدقے سب کچھ ملا ہے  لہٰذا آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف سے قربانی کرنے کے لیے منڈی کے سب سے عمدہ جانور کو خَریدا جائے اور خَریدتے وقت اس کا  بھاؤ بھی کم نہ کروایا جائے بلکہ جتنے پیسے مالک نے مانگے ہیں اس سے زیادہ پیش کیے جائیں ، لیکن یہ جذبہ اب کہاں!بعض اَمیر لوگ بہت عیش و عشرت والی زندگی گزارتے ہیں حتّٰی کہ ان کے بیتُ الخلا بھی لاکھوں کے  بنے  ہوتے  ہیں  لیکن اللہ  پاک کی راہ میں پیسہ دیتے وقت ایسا لگتا ہے گویا ان کی جان نکل رہی ہے ۔  اولاً تو زکوٰۃ ہی نہیں ادا کرتے اور اگر دے بھی دیں تو غریبوں  کو خوب دھکے کھلاتے اور توہىن آمىز انداز اپناتے ہیں  یقیناً یہ رَویہ بالکل بھی دُرُست نہیں ۔