Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
43 - 47
جس کو کسی بھی طرح سے بزرگوں سے نسبت حاصل ہو چنانچہ 
بزرگوں کی اولاد کا ادب 
	 شیخ الاسلام ، حضرت علامہ برہان الدّین زرنوجی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : بخارا کے آئمہ میں سے ایک بلند پایا امام کا واقعہ ہے :ایک مرتبہ وہ علمِ دین کی ایک مجلس میں تشریف فرما تھے کہ یکایک انہوں نے بار بار کھڑا ہونا شروع کر دیا، لوگوں نے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا : میرے استادِ محترم کا صاحبزادہ بچوں کے ساتھ کھیل رہا تھا، کبھی کبھی کھیلتا ہوا وہ مسجد کی طرف آ نکلتا، پس جب میری نظر اس پر پڑتی تو میں اپنے استاد کی تعظیم میں اس کی تعظیم کے لئے کھڑا ہو جاتا۔(تعلیم المتعلم طریق التعلم ،ص۲۳)
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
(حکایت :۲۲)آنکھوں کا بوسہ
	 امیرِاہلسنّت دامَتْ َبرَکَاتُہُمُ الْعَا لِیَہ ایک بار   ’’مدینۃ المرشد بریلی شریف‘‘ (ہند)حاضر ہوئے۔ کسی نے وہاں موجود ایک ضعیف العمر بُزُرگ کے متعلق بتایا کہ اِنہوں نے اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْکی زیارت کی ہے۔ امیرِ اَہلسنّتدامَتْ َبرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  فرطِ محبت میں کھڑے ہوئے اور نہ صرف ان کی آنکھوں کا بوسہ لیا بلکہ جھُک کر اُن کے قدموں کو بھی چُوم لیا۔