Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
42 - 47
 نے بھی یہاں قیام فرمایا تھا۔ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے یہ فرماتے ہوئے اس مکان میں ٹھہرنے سے انکار کر دیا کہ جس مقام پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنْ نے قیام فرمایا ہواس جگہ ٹھہرنا  مجھے اپنے لیے خلافِ ادب محسوس ہوتاہے۔ اس اسلامی بھائی کے اصرار کے باوجود آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  نے اس کمرے میں ٹھہرنے سے معذرت فرمائی اوراس کے سامنے والے کمرے میں قیام فرمایا۔
	ایک اسلامی بھائی نے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ   سے عرض کی: حضور! آپ اوپر والی منزل میں تشریف لے چلئے وہ کمرہ اس سے بڑا بھی ہے اور ہوادار بھی۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے ارشاد فرمایا : اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جس مکان میں تشریف فرما ہوئے ہوں اس کے اوپر والی منزل پر جانا بھی میرے نزدیک بے ادبی ہے۔ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے جتنے دن وہاں قیام فرمایا ادب کی وجہ سے ایک بار بھی اوپر والی منزل میں نہیں گئے۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے ! امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی عارضی قیام گاہ کا بھی کس قدر ادب و احترام فرماتے ہیں ۔ اللّٰہ والوں کا شروع سے ہی طریقہ رہا ہے کہ اپنے اساتذہ ، پیرو مرشد کا ادب و احترام کرنے کے ساتھ ساتھ ہر اُس چیز کی تعظیم بجا لاتے تھے