Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
41 - 47
اور اسے سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طرف منسوب کردیتے ہیں کہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں ارشاد فرمایا ہے ،یاد رکھئے! کسی بھی ایسی بات کو سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف منسوب کرنا جو آپ نے نہ کہی ہو یہ  آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر افتراء(جھوٹ باندھنا) ہے اور ایسے شخص  کے لیے حدیثِ پاک میں سخت وعیدہے چنانچہ 
	حضرت سیدنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے مروی ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللّٰہُ  تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: جب تک تمہیں علم نہ ہو میری طرف سے حدیث بیان کرنے سے بچو، جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔(ترمذی، کتاب تفسیر القراٰن عن رسول اللّٰہ، باب ماجاء فی الذی یفسر القراٰن برایہ ، ۴/۴۳۹، حدیث:۲۹۶۰) 
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
(حکایت :۲۱) اعلٰی حضرت  کی قِیام گاہ کا ادب
	 ۱۴۲۰ھ بمطابق 1999؁ء امیرِ اَہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نیکی کی دعوت عام کرنے کے سلسلے میں اجمیر شریف (ہند)حاضر ہوئے۔ایک اسلامی بھائی نے آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے قِیام کا انتظام ایسے مکان میں کیا جس کے بارے میں مشہور تھا کہ اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلَیْہ رَحْمَۃُ الرَّحمٰن