داڑھی شریف رکھنے کے موضوع پر بیان فرما رہے تھے کہ دورانِ بیان ایک بوڑھاشخص کھڑا ہوا،اس نے لوگوں کی پرواہ کیے بغیر انتہائی بے ہودہ انداز میں بلند آواز سے بولنا شروع کردیا:اوئے ملاں !سن!حدیث میں ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم نے پہلے صحابۂ کرام کو داڑھی رکھنے کا حکم دیا تھا پھر کافروں کے مظالم سے بچنے کے لیے داڑھیاں منڈوانے کا حکم دے دیا تھا۔ (مَعَاذَ اللّٰہ) امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس کی بات کے دوران ہی ارشاد فرمایا:مجھے ایسی کوئی حدیث نہیں سننی جو آج تک محدثینِ کرام کو نظر ہی نہیں آئی۔ کیونکہ حدیث میں تو ہے :سرکار دوعالم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو حکم دیا:’’ مونچھیں پست کرو، داڑھیوں کو معافی دو اور یہودیوں کی سی صورت مت بناؤ‘‘(شرح معانی الآثار للطحاوی،کتاب الکراہۃ، باب حلق الشارب،۴/ ۲۸،حدیث:۶۴۲۴)۔اب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس کی جانب التفات نہ فرمایااور اپنا بیان اسی طرح جاری رکھا۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں : اللّٰہ کرے وہ بوڑھاتوبہ کرچکا ہو ۔
حدیث کے معاملے میں احتیاط لازم ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!علمِ دین سے دوری کی وجہ سے بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ بغیر سوچے سمجھے اپنی اٹکل سے کوئی بات کہہ دیتے ہیں