کہا: نہیں !ابھی دِکھاؤ۔مانا جُوا حرام،بدکاری حرام،ڈکیتی حرام۔داڑھی منڈانا حرام تم نے کیسے کہہ دیا۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاسے نرمی سے سمجھاتے رہے جناب !یہ مسئلہ کتابوں میں اسی طرح لکھا ہوا ہے ،میرے پاس اس وقت کتاب موجود نہیں میں آپ کو دِکھا دوں گا۔مگر اس کی ایک ہی رٹ تھی میں نہ مانوں ! ابھی کتاب دکھاؤ۔بالآخر امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اس سے اُلجھے بغیرحکمتِ عملی سے ترکیب بنائی اور معاملہ ختم فرمایا۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یقینانیکی کی دعوت دیتے ہوئے سخت کلامی اختیار کرناانتہائی نقصان دہ ہے ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اس شخص کے جارحانہ رویّے کے باوجود نرمی سے ہی پیش آئے۔ بعض لوگوں کے سمجھانے کا اَنداز کچھ یوں ہوتا ہے کہ میاں اِتنے بڑے ہو گئے ہو تمہیں عقْل نہیں ہے، اَذان ہو رہی ہے، تم نماز کے لئے نہیں آتے، یار!تم تَو نرے بُدُّھو ہو،تمہارا دماغ تَو بالکل خراب ہو گیا ہے ،جہنَّم میں جاؤگے، وغیرہ وغیرہ۔یہ اَنداز سخْت ہے اِسے بالکل پذیرائی نہیں ،ایسے طریقے چھوڑنے اور خوش اَخلاقی اپنانے میں ہی بھلائی ہے۔
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
(حکایت :۲۰)داڑھی کی مخالفت کرنے والا
دعوتِ اسلامی کے اَوائل کی بات ہے :امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ