Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
37 - 47
 رہے تھے۔ دورانِ سفر ایک بوڑھا شخص ملااس نے امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سے کہا:مولانا! میری طرف سے بھی کنکریاں مار دینا۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے کچھ یوں ارشاد فرمایا: بڑے میاں ! آپ اپنے ہاتھ سے کنکریاں کیوں نہیں مار لیتے؟اس نے جواب دیا :بیمار و مجبو ر شخص کے لیے تو رخصت ہے کہ کسی سے رَمی کروالے۔ امیرِاہلِسنّت نے فرمایا: آپ تو ماشآء اللّٰہ صحت مند معلوم ہو رہے ہیں ۔امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بات سُن کر اس نے کہا: اچھا!میں نے کل جو دوسرے آدمی سے رَمی کروائی وہ کیا غلط کیاتھا؟ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا:جی ہاں !جو شخص چلنے پھرنے پر قادرہو وہ اگر دوسرے سے رَمی کروائے تو اس پر دَم واجب ہو جاتا ہے۔ آپ نے باوجودِ قدرت کسی سے کنکریاں پھینکوا دیں اس لیے آپ کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی بات سنتے ہی اس کی حالت ایسی ہو گئی کہ گویا اس پرکوئی پہاڑ ٹوٹ پڑا ہو۔وہ فوراً آپے سے باہر ہو گیااورڈانٹتے ہوئے چلا کر بولا:’’اپنا مسئلہ اپنے پاس رکھ! خوامخواہ میں دم واجب ہو گیا۔‘‘یہ کہہ کروہ چلا گیا۔ امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اُس کے اِس جارحانہ انداز پر کسی قسم کے جذباتی پن کا مظاہرہ نہیں فرمایابلکہ آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے صبر کا جام نوش فرمایا۔ اس پر جدّہ شریف کے ایک اسلامی بھائی (جو اس وقت آپ کے ساتھ تھے) نے عرض کی:آپ کو اس بوڑھے شخص کی