Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
36 - 47
 پیش آنا چاہئے کہ ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ہمیشہ برائی کا جواب اچھائی سے ہی دیا۔یاد رکھئے!ضروری نہیں کہ ہم کسی سے مسکرا کر ملیں تو وہ بھی خندہ پیشانی سے ہمارا استقبال کرے، بلکہ ممکن ہے کہ مخاطَب ہماری مسکراہٹ کو طنز سمجھ کر طیش میں ہی آجائے اور ہمیں خندہ روئی کے جواب میں یوں سننا پڑے:آپ کیوں ہنستے ہیں ؟ چنانچہ ایسے موقع پر اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمان پیش نظر رکھنا چاہیے:
وَلَا تَسْتَوِی الْحَسَنَۃُ وَلَا السَّیِّئَۃُ ؕ اِدْفَعْ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیۡ بَیۡنَکَ وَبَیۡنَہٗ عَدٰوَۃٌ کَاَنَّہٗ وَلِیٌّ حَمِیۡمٌ ﴿۳۴﴾ (پ۲۴،حم السجدۃ، آیت:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اور نیکی اور بدی برابر نہ ہوجائیں گی اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست ۔ 
صلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صلَّی اللّٰہ تعالٰی علٰی محمَّد
(حکایت :۱۸)اینٹ کا جواب پتھر سے نہ دیجئے
	  امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہایک بار حج کے لیے مکہ مکرمہ  زَادَھَا اللّٰہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماًحاضر تھے۔ غالباً گیارہ ذوالحجۃ الحرام کو آپ  دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ جمرات کی رَمی(یعنی شیطان کو کنکریاں مارنے)کے لیے مِنیٰ شریف جا