نیکی کی دعوت کو عام کیا کرتے تھے ۔ایک بار امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بابُ المدینہ کراچی کے علاقے ملیر کی ایک مسجد میں بیان فرمانے کے لئے تشریف لے گئے۔ نمازِ عشا کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے خود ہی بیان کا اعلان فرمایا۔ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہنے نماز کے بعدبیان شروع کرنے سے قبل امام صاحب سے مصافحہ کرنے کے لیے جونہی ہاتھ بڑھائے امام صاحب نے بے رخی سے منہ پھیر لیا اور ہاتھ نہ ملایا۔شاید انہیں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے بارے میں کوئی غلط فہمی ہو گئی تھی ۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ امام صاحب کے اس رویّے پر کسی قسم کی ناگواری کا اظہار نہیں فرمایابلکہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے حکمتِ عملی سے نمازیوں کو جمع کیا اور سنتوں بھرا بیان شروع کر دیا۔ جب آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بیان سے فارغ ہوئے تو وہی امام صاحب آگے بڑھے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ حجرے میں لے گئے،خوب شفقتوں سے نوازااور چائے سے تواضع فرمائی۔ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں :اس واقعے کے بعدان امام صاحب سے جب بھی ملاقات ہوئی وہ بے حد محبت سے ملے اور ہر بار شفقتوں سے نوازا۔
برائی کا بدلہ بھلائی سے دیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!ہمیں ہمیشہ نرمی اور حسنِ اخلاق ہی سے