Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
34 - 47
 ہو اُسے آقائے دوجہاں صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں نذر پیش کروں ۔ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!واقعی جب بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی راہ میں کوئی چیز خرچ کریں یا بزرگوں کی نذر و نیاز کریں ہمیشہ عمدہ اور اپنی پسندیدہ چیز ہی پیش کریں ۔جیسا کہ ہمارے بزرگانِ دین  رَحِمَہُمُ اللّٰہُ المُبِیْن کا طریقہ رہا ہے کہ وہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں اپنی محبوب ترین چیزیں خرچ کیا کرتے تھے چنانچہ 
	حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز   رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّ میں شکرکی بوریاں خرید کرصدقہ کیا کرتے تھے۔ ان سے کہاگیا :اس کی قیمت ہی کیوں نہیں صدقہ کر دیتے؟فرمایا: شکر مجھے محبوب ومرغوب ہے اور میں یہ چاہتا ہوں کہ راہِ خدا عَزَّوَجَلَّمیں اپنی پیاری چیز خرچ کروں ۔(تفسیرِ قرطبی،پ۴،اٰلِ عمران،تحت الاٰیۃ:۹۲،۲/۱۰۱،جزئ:۴)
  اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں بھی اپنی پسندیدہ چیزوں کوراہِ خدا میں خرچ کرنے کی سعادت عطا فرمائے۔ اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت :۱۷) امام صاحب نے ہاتھ نہ ملایا
	یہ ان دنوں کا واقعہ ہے جب امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ باب المدینہ کراچی کے مختلف علاقوں میں جا جا کر سنّتوں بھرے بیانات کے ذریعے