Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
33 - 47
 امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے اس واقعے میں درس ہے کہ سب سے پہلے نمازاور اس کے بعد کوئی دوسرا کام کیا جائے۔ یہ بھی یاد رہے کہ وضو کے معاملے میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے کہیں کوئی چیز جیسے افشاں وغیرہ لگی رہ گئی تووضو نہ ہو گا جیساکہ صدرالشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمیرَحمۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ماتھے پر اَفشاں چُنی ہو تو چُھڑانا ضروری ہے۔(بہارِ شریعت،۱/۳۱۸) اَفشاں یا ٹکلی وضو وغسل کے ادا میں مانع ہیں۔(فتاویٰ امجدیہ ،۴/۶۰)البتہ اَفشاں کاکام کرنے والے کے جسم پر اَفشاں اس طرح لگی رہی کہ چھڑانے میں تکلیف ہو تو ضرورتاً اُس کا وضو اور غسل ہوجائے گا۔(وقارالفتاویٰ ، ۲/ ۲ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت :۱۶)پسندیدہ چیز پیش کیجئے 
	ایک بارامیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ نے گھر میں کچھ کھانا تیار کرنے کا فرمایا تاکہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں نذر کیا جا سکے۔ کھانا تیار کیا گیا ،امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکاتُہُم العَالِیَہ نے کھانا دیکھ کر فرمایا:یہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں نذر نہیں کیا جائے گا۔ گھر والوں کی حیرانی دور کرتے ہوئے کچھ یوں ارشاد فرمایا :اس کھانے میں ایک ایسی شے موجود ہے جسے میں پسند نہیں کرتا،اور میں یہ گوارا نہیں کرسکتا کہ جو شے خود پسند نہ