(حکایت :۱۵)نماز کی فکر
ایک بار ا میرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہجشنِ ولادت کے مدنی جلو س میں عاشقانِ رسول کے ہمراہ شریک تھے۔صلوٰۃ و سلام پڑھتا اور مرحبا یامصطفیٰ کے نعرے لگاتاعاشقانِ رسول کاٹھاٹھیں مارتا سمندر رواں دواں تھا۔ اچانک ایک شخص آگے بڑھا اور اس نے اَفْشَاں کی بھری شیشی امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہپر اُنڈیل دی۔آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے منہ سے بے ساختہ ’’یاغوث پاک‘‘ کا نعرہ بلند ہو گیا۔یوں محسوس ہو رہا تھاکہ امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ سخت پریشان ہوگئے ہیں ۔ چندلمحوں کے بعد آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے فرمایا: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ معاف فرمائے!اُس اسلامی بھائی نے میری بہت دل آزاری کی ،وہ بے چارہ جانتا نہیں تھا کہ اَفْشَاں جسم پر لگنے کی صورت میں وضو کا کیا مسئلہ ہے۔ بالآخر نہ چاہتے ہوئے امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے جلوس ترک فرمایا،بڑی تگ و دو کے بعد اَفْشَاں سے پیچھا چھڑایا اور نمازِ عصر وقت میں ادا فرمائی۔اس واقعے کو تقریباً دس بارہ سال ہو چکے ہیں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مسلمانوں کی ایک تعداد ہے جو نماز سے دور ہے اور بعض ایسے نمازی بھی ہیں کہ جو مختلف تقریبات میں شرکت کے بہانے مَعَاذَاللّٰہ جماعت تو جماعت نماز ہی قضا کر دیتے ہیں ۔شیخِ طریقت،