Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
31 - 47
(حکایت :۱۴)مولانا کوئی نئی بات سناؤ
	دعوتِ اسلامی کی ابتدامیں ایک بار امیرِ اہلسنّتدَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ باب المدینہ (کراچی)کے علاقے نیو کراچی کی ایک مسجد میں بیان فرمارہے تھے۔ سامعین میں ایک بوڑھا شخص بھی موجود تھا اُس نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور دورانِ بیان ہی ایک دَم بولا: ’’ارے مولانا ! یہ باتیں تو ہم سنتے ہی رہتے ہیں کوئی نئی بات بھی سناؤ۔‘‘ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے اس شخص کی اس دیدہ دلیری پر کسی قسم کے غصے کا اظہار نہیں فرمایا بلکہ بیان کا موضوع تبدیل فرما کر اپنے بیان کو مکمل فرمایا۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!غور فرمائیے! اگر دورانِ بیان کوئی کسی کو ٹوک دے تو اچھا بھلا آدمی بھی گھبراجاتا ہے۔ایسی صورت میں صبر سے کام لے کر قوت ِبرداشت کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی انعامات میں سے مدنی انعام نمبر ۲۸ ’’ آج آپ نے (گھر میں یا باہر) کسی پر غصہ آجانے کی صورت میں چُپ سادھ کر غصّے کا علاج فرمایا یا بول پڑے ؟نیز درگُزر سے کام لیا یا اِنتقام (یعنی بدلہ لینے )کا موقع ڈھونڈتے رہے ؟‘‘ پر عمل کرنا چاہئے۔	
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد