Brailvi Books

پیکر شرم وحیا
29 - 47
’’بجلی استعمال کرنے کے مَدَنی پھول‘‘کا مطالعہ کیجئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(حکایت :۱۳)سمجھانے کا بہترین طریقہ 
	۵ محرم الحرام۱۴۳۱ھ مطابق 23دسمبر 2009ء بروز بدھ سحری کے وقت ایک اسلامی بھائی تَشبِیک کر کے یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈال کر بیٹھے تھے۔امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہ نے انہیں سب کے سامنے سمجھانے کی بجائے ایسا طریقہ اختیار فرمایا کہ وہ شرمندگی سے بھی محفوظ رہے اورنہ صرف ان کی اصلاح ہو گئی بلکہ بہت سے اسلامی بھائیوں کومسئلہ بھی معلوم ہو گیا۔ چنانچہ امیرِ اہلسنّت  دَامَتْ بَرَکَاتُہُم العَالِیَہنے اجتماعی طور پر یوں مسئلہ بیان فرمایا:نماز میں یا نماز کے انتظار میں ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا مکروہ ِتحریمی ہے۔ اس سے بچنے کی عادت بنائیے۔ اس کے لیے بار بار توجہ رکھ کر انگلیاں نکالنا ہوں گی، ورنہ عادت نکلنا مشکل ہے۔
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہاں نماز کے دو مسئلے بھی سمجھ لیجئے:
انگلیاں چٹخانا اور تشبیک 
(1)نَماز کے دَوران اُنگلیاں چٹخانا مکروہِ تحریمی ہے اورتَوابِعِ نَماز میں مَثَلاً نَماز کیلئے جاتے ہوئے، نَماز کااِنتظار کرتے ہوئے بھی اُنگلیاں چٹخانا مکروہ ہے۔(بہارِ شریعت، ۱/۶۲۵ ملخصاً)