انگیز منظر دیکھ کر میری آنکھوں سے بھی بے اختیار آنسوں بہہ نکلے اور میں نے بھی رب عَزَّوَجَلَّکے حضور تمام گناہوں سے صدقِ دل سے توبہ کر لی ۔اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّجہاں سنّتوں بھرے اجتماع کی ڈھیروں ڈھیر برکتیں نصیب ہوئیں وہیں میرے تمام وَساوِس کی کاٹ بھی ہوگئی ۔ اب میں اجتماع میں پابندی سے شرکت کرنے لگا، سر پر عمامہ شریف کا تاج سجالیا اورداڑھی شریف رکھنا بھی شروع کر دی۔ مگرافسوس! مدَنی ماحول سے دور ہونے کے سبب میں پھر بے عملی کی طرف لوٹنے لگااور نفس و شیطان کے بہکاوے میں آکر کچھ ہی دنوں بعد عمامہ شریف اتار دیا اور معاذ اللّٰہ داڑھی شریف کو بھی منڈوا دیا ۔ تقریباً ایک سال مدنی ماحول سے دور گناہوں کی تنگ و تاریک وادیوں میں بھٹکتا رہا۔ مگر رب عَزَّوَجَلَّکی رحمت ایک بار پھر متوجّہ ہوئی اور مذکورہ اسلامی بھائی پھر کرم فرمانے تشریف لے آئے اور بذریعہ انفرادی کوشش مجھے پھر نیکیوں بھری زندگی گزارنے کا ذہن بنانے لگے۔ ان کی شفقتوں اور جشنِ عید ِمیلادُ النبی کی مبارک ساعتوں کے صدقے ایک بار پھر میں نے سر عمامہ شریف سے سر سبز کر لیا اور چہرہ داڑھی شریف کی سنّت سے مُزَیَّن کرلیا۔ 1998ء کے رمضان المبارک میں دس روزہ سنّت اعتکاف کیا۔ اس کے بعد قافلہ کورس کیا اور پھر نیکی کی دعوت عام کرنے کے لئے 12ماہ کے مدَنی قافلے کامسافر بن گیا۔ بعد ازاں خصوصی (یعنی گونگے بہرے) اسلامی بھائیوں میں نیکی کی دعوت عام کرنے کے جذبہ کے تحت قفلِ مدینہ کورس