اُٹھنے بیٹھنے لگا اور مزید ان سے استفادہ کرنے لگا یوں میرے دِل میں دعوتِ اسلامی کی محبت گھر کر گئی مگر بدقسمتی سے میرا تعلق بدمذہبوں سے بھی تھا۔ انہوں نے جب مجھے ان اسلامی بھائی کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا دیکھا تو ان لوگوں نے مجھے اپنے اس مُحسِن سے بد ظن کرنا اور ان کے بارے میں طرح طرح کے وَساوِس میں مبتلا کرنا شروع کردیا۔ نتیجتاً میرے ذہن میں طرح طرح کے شیطانی وَساوِس گردش کرنے لگے۔ اب جب بھی کہیں وہ اسلامی بھائی مجھے نظر آتے میں راستہ بدل لیتا۔ مسجد میں ہوتا تو جلدی سے نماز پڑھ کر چلا جاتا۔ مگر قربان جائیے! ان اسلامی بھائی کے حسنِ اخلاق اور رویّہ پر کہ باوجود میری کنارہ کشی کے وہ مجھ سے ہمیشہ مسکرا کر ملتے ۔ واہ کینٹ میں دعوتِ اسلامی کے تحت ہفتہ وار سنتوں بھرا اجتماع ہوتا ہے ایک مرتبہ وہ مجھے اپنے ہمراہ وہاں لے جانے میں کامیاب ہو گئے۔ جب میں وہاں پہنچا تو کثیر نوجوانوں کو سنّت کے سانچے میں ڈھلا دیکھ کر بہت متأثر ہوا۔ وہاں ہونے والے اصلاحی بیان سننے کی برکت سے احکامِ اسلام پر عمل پیرا ہونے کا جذبہ ملا۔ مجھے اسلامی بھائیوں کی زندگیوں پر رشک آنے لگا اوراپنے معمولاتِ زندگی پر ندامت کا احساس ہونے لگا۔ اجتماع کے اختتام پر ذِکرُ اللّٰہ کی صدائیں بلند ہوئیں اور اس کے بعد رقّت انگیز دعا کا سلسلہ ہوا۔ دُعا کا آغاز ہونا تھا کہ ہر طرف سے آہ و بکا کی آوازیں آنے لگیں ،بہت سے خوش نصیب رب عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں رو رو کر اپنی بخشش و مغفرت کا سوال کرنے لگے ، یہ رقت