Brailvi Books

اوباش دعوتِ اسلامی میں کیسے آیا؟
24 - 32
 کی دعوت کی روح انفرادی کوشش ہے۔ جس مسلمان پر نیکی کی دعوت پیش کرنے کیلئے انفرادی کوشش کرنی ہو اُس کیلئے یہ ذہن بناناچاہئے کہ میں جس سے ملنے لگا ہوں وہ ایک مسلمان ہے، مسلمان چاہے کتنا ہی گنہگار ہو مگر دولتِ ایمان سے مشرَّف ہونے کی وجہ سے اُس کا اپنا ایک مقام ہے اور میں نے ملنا بھی اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے دین کی سر بلندی اور آخِرت کی بہتری کیلئے ہے، اِس نیّت سے میرا ملنا عبادت کا دَرَجہ رکھتا ہے، اگر ان نیّتوں کے ساتھ ملاقات کریں گے تو اِس موقع پر اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّرحمتوں کا نُزُول ہو گااور برکتیں ملیں گی۔ ایک خاص مدَنی پھول یہ بھی ذہن میں رہے کہ اُس کے عُیُوب کی ٹٹول میں مت پڑیئے، اُس کی عَقل سے ماوَرا (یعنی اُس کی سمجھ میں نہ آئے ایسی) بات مت کیجئے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی امیرِاہلسنّت پر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفرت ہو
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب!		صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{8} بگڑی قسمت سنور گئی
	محلہ واڑیاں نزد ریلوے اسٹیشن ٹیکسلا (ضلع روالپنڈی، صوبہ پنجاب ، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی اپنی داستانِ عشرت کے خاتمے کے احوال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مہکے مہکے مدنی ماحول میں آنے سے پہلے میری عملی حالت ناقابلِ بیان تھی۔ زندگی کی’’ انمول سانسیں ‘‘ غفلت کی