دیا یوں ان کی انفرادی کوشش کی بدولت میں اس گناہ سے بچ گیا۔ پھر انہوں نے مزید کرم فرمایا اور مجھے نماز با جماعت ادا کرنے کا مدَنی ذہن دیا اور ساتھ ہی بعدِ عشاء دعوتِ اسلامی کے تحت لگائے جانے والے مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں شرکت کرنے اور دُرُست مخارج کے ساتھ قرآن کریم سیکھنے کا مجھے مدَنی مشورہ بھی دیا۔ چونکہ ابھی تک میں نے دُرُست مخارج کے ساتھ قراٰن پاک نہیں پڑھا تھا لہٰذا ان کی اس تجویز کو میں نے ہاتھوں ہاتھ قبول کیا اور مدرسۃ المدینہ (بالغان) میں داخلہ لے کر نورِ قراٰن سے اپنا سینہ منور کرنے لگا۔ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ عاشقانِ رسول کی صحبت کیا مُیَسَّر آئی رفتہ رفتہ میرے گناہوں کی عادت ختم ہونے لگی، نیکیوں سے محبت اور گناہوں سے نفرت کا ذہن بننے لگا اور یوں میں بھی سنّتوں پر عمل کرنے لگا۔ نمازِ پنج گانہ کی پابندی نصیب ہوگئی اور چہرے پر داڑھی شریف سجا لی۔ مزید جذبہ بڑھا تو علاقے کے دیگر اسلامی بھائیوں کے ساتھ مل کر دعوتِ اسلامی کے مدَنی کاموں میں حصہ لینے لگا۔ تادمِ تحریر اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّوَجَلَّتنظیمی ترکیب کے مطابق حلقہ مشاورت اور شعبہ تعلیم کی علاقائی سطح کے ذمہ دار کی حیثیت سے مدنی کاموں کی ترقی کے لئے کوشاں ہوں ۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف ’’نیکی کی دعوت ‘‘ کے صفحہ 332 پر تحریر فرماتے ہیں : نیکی