دیکھنا، گانے باجے سننا میرے معمولات میں شامل تھا۔ رات گئے تک ’’ٹی وی‘‘ پر بیہودہ مناظر دیکھ کر اپنی شہوت کو تسکین پہنچانا بھی میری سیاہ کاریوں میں شامل تھا۔ مگر آہ! مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہ عیش کوشیاں میری آخرت برباد کر رہی ہیں اور میں قبر و حشر کے ہولناک عذابات کا اپنے آپ کو حقداربنا رہا ہوں ۔ میری گناہوں بھری زندگی کا خاتمہ کچھ اس طرح ہوا کہ میرے ایک کزن جو دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مدَنی ماحول سے وابستہ ہیں وہ وقتاً فوقتاً مجھ پر انفرادی کوشش فرماتے، نیکیوں کی رغبت دلاتے، گناہوں کی ہلاکت خیزیوں سے ڈراتے مگر میں قساوتِ قلبی کے باعث ان کی باتوں پر کوئی توجّہ نہ دیتا اور سنی ان سنی کر دیتا۔ ایک دن دوستوں نے سنیماگھر جاکر فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا اور مجھے بھی اس گناہوں برے کام کے لئے مَدْعو کیا، فلم دیکھنے کے شوق میں ، مَیں نے تیاری کرنا شروع کردی کہ اسی اثنا میں میرے مذکورہ کزن گھر تشریف لے آئے اور مجھے جلدی میں دیکھ کر گھروالوں سے میری بابت دریافت فرمانے لگے۔ اُنہیں بتا یاگیا کہ مَعَاذَاللّٰہ میں فلم دیکھنے سنیما گھر جا رہا ہوں یہ سنتے ہی وہ فوراً میرے پاس آئے اور مجھے سمجھانے لگے، خدا عَزَّوَجَلَّکی نافرمانی سے ڈرانے لگے اور قبر و آخرت کی فکر کے حوالے سے میرا ذہن بنانے لگے۔ ان کی اصلاح سے معمور انفرادی کوشش نے میرے قلب و ذہن پر ایسا اثر کیا کہ میں نے سنیماگھر جانے کا ارادہ ترک کر