میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! پُرسکون زندگی ایک ایسی عظیم نعمت ہے جس کا کوئی نِعْمَ الْبَدَل نہیں ۔ آج اس نفسا نفسی کے دور میں تقریباً ہر شخص اِس جوہرِ نایاب کا متلاشی ہے اور اس کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے مگرعلمِ ِدین سے دوری کے سبب اِس بات سے لاعِلم ہے کہ سکون اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے ذِکر میں ہے۔جیسا کہ آپ نے مدنی بہار میں پڑھا کہ بے سکونی سے دوچار نوجوان کو دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول ملنے کی برکت سے پتاچلا حقیقی سکون ذکرِخدامیں ہے اور یہ بے چینی وبے سکونی شامت اعمال ہے، لہٰذا انہوں نے گناہوں بھری زندگی سے کنارہ کشی اختیارکی اور عاشقان رسول سے اپنا تعلق جوڑ لیااور مدنی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصے لینے لگے جسکی برکت سے ان کی بے چینی کافور ہوگئی اور یہ سکون کی نعمت سے مالامال ہو گئے۔
صَلُّوْاعَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{7}میں سنیما گھر جانے سے کیسے رُکا؟
بابُ المدینہ (کراچی) کے علاقے نیوکراچی کے مقیم اسلامی بھائی دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہونے کے احوال کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں کہ پہلے میں گناہوں بھری زندگی بسر کررہا تھا، متعدد معاشرتی و اخلاقی برائیوں میں مبتلا تھا۔ نت نئے فیشن اپنانا، داڑھی منڈوانا، فلمیں ڈرامیں