Brailvi Books

اوباش دعوتِ اسلامی میں کیسے آیا؟
18 - 32
 بہت سکون ملا۔ اب میں روزانہ باجماعت نماز ادا کرنے مسجد جانے لگا اور سکونِ قلبی پانے لگا۔ مسجد میں جہاں دیگر نمازی آتے تھے وہیں دو نمازی ایسے بھی تھے جو سب میں نمایاں تھے۔ ان کے سروں پر سبز رنگ کا عمامہ اور بدن پر سفید رنگ کا لباس ہوتا تھا۔ ان کا یہ اندازِ لباس میری آنکھوں کو بھاگیا اور مجھے ان سے محبت ہوگئی۔ رفتہ رفتہ میرے دل میں بھی عمامہ شریف سجانے کا شوق پیدا ہونے لگا۔ ایک دن میں نے گھر سے ایک سبز رنگ کی چادر لی ’’جو والد صاحب کسی دربار سے بطورتبرّک لائے تھے‘‘ اور مسجد پہنچ گیا اور مذکورہ اسلامی بھائیوں کی طرف چادر بڑھاتے ہوئے میں نے عرض کی کہ مجھے بھی عمامہ باندھ دیجئے۔ میرے اس نیک جذبے کو دیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئے اور ہاتھوں ہاتھ ایک اسلامی بھائی نے میرے سر پر عمامہ شریف سجادیا۔ میری عمامے سے محبت دیکھ کر انہوں نے مجھے دعوتِ اسلامی کا تعارف کرایا اور اس کے تحت ہونے والے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع کے بارے میں بتاکر اس میں شرکت کرنے کا ذہن بنایا۔ ان کی اس نیکی کی دعوت کو میں نے تہِ دِل سے قبول کیا اور اجتماع میں شرکت کا وعدہ کر لیا اور ایک دن ان کے ساتھ اس اجتماع میں شرکت کرنے کے لئے روانہ ہوگیا۔ وہاں پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رِہ گیا کہ یہاں تو ہر طرف عماموں کی بہاریں ہیں اور لوگ جوق در جوق شرکت کرنے کے لئے اجتماع میں آرہے ہیں ۔ بہرحال میں ایک مناسب