Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
98 - 100
بیان ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول میں شامل ہونے سے پہلے میں اپنے گوٹھ کا وڈیرہ تھا ،گورنمنٹ کی ملازمت اور 45ایکڑزمین سے ملنے والی آمدنی کی وجہ سے میرے پاس بہت پیسہ تھا جس کی وجہ سے میں برائیوں کی دنیا میں چلا گیا ، روزانہ شراب پینا،لوگوں سے جھگڑنا میرا مشغلہ تھا،عیاشیاں کرنا میرا شوق تھا ،لوگوں کی دل آزاریاں کیا کرتا ،وڈیرا ہونے کی وجہ سے غریب مجھے ڈرکے مارے کچھ بھی نہیں کہتے تھے ۔میرے والد صاحب کا کئی برس پہلے انتقال ہوچکا تھا ،مجھ سے بڑے اور چھوٹے دونوں بھائی میری اس حالت سے تنگ تھے انہیں روزانہ میری شکایتیں ملا کرتیں ۔ میں پوری پوری رات عیاشی کی محفلوں میں گزار دیتا پھر یار دوست نشے کے حالت میں مجھے گوٹھ چھوڑ جایا کرتے ۔
	میری قسمت یوں جاگی کہ میرے ایک شناسا اسلامی بھائی مجھے سات آٹھ سا ل سے ملتان میں ہونے والے سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دیا کرتے مگر میں انکار دیتا ۔2005ء کے اجتماع میں انہوں نے مجھے دعوت دی تو میں نے ہاں کردی کہ چلو تھوڑا گھوم پھر بھی آئیں گے ۔مگر جب اجتماع میں امیراہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ کی رقت انگیز دعا سنی تو میرے ہوش اُڑ گئے اور میں پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا کہ میں نے اتنا وقت ضائع کردیا !اس کے بعد میں نے 2007ء میں ٹنڈو آدم(باب الاسلام سندھ) میں 30دن کا