نظر کرے تو جتنی دور تک نگاہ پھیلے وہ موضع سجود ہے ، اس کے درمیان سے گزرنا ناجائز ہے ، مکان اور چھوٹی مسجد میں قدم سے دیوار قبلہ تک کہیں سے گزرناجائز نہیں اگر سترہ نہ ہو ۔ (فتاوی ہندیہ،۱/۱۰۴) (بہار شریعت ، ۱/ ۶۱۵)٭ مصلّی کے آگے ستُرہ ہو یعنی کوئی ایسی چیز جس سے آڑ ہو جائے، تو سُترہ کے بعد سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (بہار شریعت ، ۱/۶۱۵)٭ سُترہ بقدر ایک ہاتھ کے اونچا اور انگلی برابر موٹا ہو اور زیادہ سے زیادہ تین ہاتھ اونچا ہو۔(الدر المختار ورد المحتار،۲/ ۴۸۴) (بہار شریعت ، ۱/ ۶۱۵)٭ امام کا سُترہ مقتدی کے لیے بھی سُترہ ہے ، اس کو جدید سُترہ کی حاجت نہیں ، تو اگر چھوٹی مسجد میں بھی مقتدی کے آگے سے گزر جائے جب کہ امام کے آگے سے نہ ہو حرج نہیں ۔ (رد المحتار،۲/۴۸۷)٭درخت اور جانور اور آدمی وغیرہ کا بھی سُترہ ہو سکتا ہے کہ ان کے بعد گزرنے میں کچھ حرج نہیں۔ (غنیۃ المتملی،ص ۳۶۷)مگر آدمی کو اس حالت میں سُترہ کیا جائے جب کہ اس کی پیٹھ مصلّی کی طرف ہو کہ مصلّی کی طرف منہ کرنا منع ہے ۔ (بہار شریعت ، حصہ ۳ ، ۱/ ۶۱۶)
وڈیرے کی توبہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!نیکیوں پر استقامت پانے اور گھر میں سنّتوں بھرا مَدَنی ماحول بنانے کے لئے دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابستہ ہوجائیے ،اڈیرولال(ضلع مٹیاری، باب الاسلام سندھ) کے اسلامی بھائی (عمرتقریباً42سال) کا