Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
96 - 100
 گزرنے والے ایک شخص سے فرمایا:تمہیں ایسا کرنے پر کس چیز نے ابھارا؟ اس نے پوچھا:میں نے کیا کیا ہے؟ارشاد فرمایا:تم اپنے بھائی کی نماز کے سامنے سے گزرے ہو اور اپنے ایک یا دو سالہ عمل کی عمارت گرا دی ہے۔(تاریخ دمشق،۳۵/۳۵۵)
سُترے کے مدنی پھول
	صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ  علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:مصلّی (یعنی نماز پڑھنے والے)کے آگے سے گزرنا بہت سخت گناہ ہے۔ حدیث میں فرمایا : کہ اس میں جو کچھ گناہ ہے اگر گزرنے والا جانتا تو چالیس تک کھڑے رہنے کو گزرنے سے بہتر جانتا ، راوی کہتے ہیں : میں نہیں جانتا کہ چالیس دن کہے یا چالیس مہینے یا چالیس برس ۔  (مسلم،ص۲۶۰،حدیث: ۵۰۷) ٭رسولُاللّٰہصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  نے فرمایا : اگر کوئی جانتا کہ اپنے بھائی کے سامنے نماز میں آڑے ہو کر گزرنے میں کیا ہے تو سو برس کھڑا رہنا اس ایک قدم چلنے سے بہتر سمجھتا۔ (ابن ماجہ،۱/۵۰۶،حدیث:۹۴۶) ٭امام مالک نے روایت کیا کہ کعب احبار فرماتے ہیں : نمازی کے سامنے گزرنے والا اگر جانتا کہ اس پر کیا گناہ ہے تو زمین میں دھنس جانے کو گزرنے سے بہتر جانتا ۔ (الموطا ، ۱/ ۱۵۴ ، رقم : ۳۷۱) (بہار شریعت ، ۱/ ۶۱۴)٭میدان اور بڑی مسجد میں مُصلّی کے قدم سے مَوضع سجود تک گزرنا ناجائز ہے ، موضع سجود سے مراد یہ ہے کہ قیام کی حالت میں سجدہ کی جگہ کی طرف