ثواب کم ہوجاتا ہے ، میرے آقااعلیٰ حضرت، امامِ اہلِسنّت، مجدِّدِ دین وملّت ،مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنسے پوچھا گیا :امام نے ظہر کے وقت چاررکعت نمازسنت ادا کرنے کے بعد کلام دنیا کیا بعد اس کے نمازپڑھائی تو اس فرض نماز میں کچھ نقصان آئے گایانہیں؟ اور نمازسنت کا ثواب کم ہوجائے گا یاباطل ہوجائے گی؟
جواب ارشاد فرمایا:فرض میں نقصان کی کوئی وجہ نہیں کہ سنتیں باطل نہ ہوں گی، ہاں اس کا ثواب کم ہوجاتاہے۔تنویرالابصارمیں ہے:وَلَوْتَکَلَّمَ بَیْنَ السُّنَّۃِ وَالْفَرْضِ لَایُسْقِطُھَا وَلٰکِن یَّنْقُصُ ثَوابُھَا (یعنی اگرکوئی سنن وفرائض کے درمیان کلام کرتاہے تو اس سے سنن ساقط نہیں ہوجاتی مگران کے ثواب میں کمی واقع ہوجاتی ہے ت۔)۔ واﷲ تعالٰی اعلم(درمختار،۲/ ۵۵۸) (فتاویٰ رضویہ،۷/۴۴۸)
سنتِ قبلیہ کا دوبارہ پڑھ لینا بہتر ہے
اعلیٰ حضرت رَحمَۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ سے پوچھا گیا کہ کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سنتیں پڑھنے کے بعد اگرگفتگو کی جائے توپھر اِعادہ سنتوں کا کرے یانہیں؟
جواب دیا:اِعادہ بہترہے کہ قبلی سنتوں کے بعدکلام وغیرہ اَفعال منافی تحریمہ کرنے سے سنتوں کاثواب کم ہوجاتاہے اور بعض کے نزدیک سنتیں ہی جاتی رہتی ہیں توتکمیلِ ثواب وخُرُوج عَنِ الْاِخْتِلَاف (یعنی اختلافِ فقہاء سے نکلنے )کے لئے اِعادہ بہترہے جبکہ اس کے سبب شرکتِ جماعت میں خَلَل نہ پڑے مگرفجر کی سنتیں کہ اُن کا اِعادہ جائزنہیں۔ واﷲتعالٰی اعلم (فتاویٰ رضویہ،۷/۴۴۹)