Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
93 - 100
مالِ حرام سے نجات کا طریقہ
	شیخِ طریقت امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّاؔر قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنے رسالے  ’’پُراَسرار بھکاری ‘‘ کے صفحہ 26 پر لکھتے ہیں: حرام مال کی دو صورَتیں ہیں: (۱) ایک وہ حرام مال جو چوری، رشوت، غَصَب اور انہیں جیسے دیگر ذرائِع سے مِلاہو اِس کو حاصِل کرنے والا اِس کااصلاً یعنی بالکل مالِک ہی نہیں بنتا اور اِس مال کے لئے شَرعاً فرض ہے کہ جس کا ہے اُسی کو لَوٹا دیا جائے وہ نہ رہا ہو تو وارِثوں کو دے اور ان کا بھی پتا نہ چلے تو بِلا نیّتِ ثواب فقیر پر خیرات کر دے (۲) دوسرا وہ حرام مال جس میں قبضہ کر لینے سے مِلکِ خبیث حاصِل ہو جاتی ہے اور یہ وہ مال ہے جو کسی عقدِ فاسِد کے ذَرِیعہ حاصِل ہوا ہو جیسے سُودیا داڑھی مُونڈنے یا خَشْخَشِی کرنے کی اُجرت وغیرہ ۔ اِس کا بھی وُہی حکم ہے مگر فرق یہ ہے کہ اس کو مالِک یا اُس کے وُرثا ہی کو لَوٹا نا فرض نہیں اوّلاً فقیر کو بھی بِلانیّتِ ثواب خیرات میں دے سکتا ہے۔ البتّہ افضل یِہی ہے کہ مالِک یا وُرثا کو لوٹا دے۔ ( ماخوذ از:فتاویٰ رضویہ ,۲۳/۵۵۱،۵۵۲ وغیرہ)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! 		صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(27)  فرض کے بعد سنتیں پڑھنے میں تاخیر کرنا 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی بھی نماز کی سنتیں پڑھ کر فرض پڑھنے سے پہلے یا فرض پڑھ کر سنتیں پڑھنے سے پہلے بات چیت نہیں کرنی چاہئے کہ اس سے