آپ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ! اگر یہ شخص اتنا روئے، اتنا روئے کہ اس کا دَم نکل جائے اور اپنے ہاتھ اتنے بلند کرلے کہ آسمان کو چھولیں تب بھی میں اس کی دُعا قبول نہ کرو ں گا۔ حضرتِ سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے عرض کی: میرے مولیٰ! عَزَّوَجَلَّ اس کی کیا وجہ ہے ؟ارشاد ہوا: یہ حرام کھاتا اور حرام پہنتا ہے اور اس کے گھر میں حرام مال ہے۔
(عیون الحکایات،الحکایۃ الثانیۃ والخمسون بعد الثلاثمائۃ ،ص۳۱۲)
مالِ حرام سے جان چھڑا لیجئے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کوئی شخص جتنا بھی مالِ حرام جمع کرلے، ایک دن ایسا آئے گا کہ اسے یہ سارا مال دنیا میں ہی چھوڑ کر خالی ہاتھ دُنیا سے جانا ہوگا کیونکہ کفن میں تھیلی ہوتی ہے نہ قبر میں تجوری، پھر قبر کو نیکیوں کا نُور روشن کرے گا نہ کہ سونے چاندی کی چمک دمک !الغرض یہ دولت فانی ہے اور ہِرتی پھرتی چھاؤں ہے کہ آج ایک کے پاس تو کل کسی دوسرے کے پاس اور پرسوں کسی تیسرے کے پاس ! آج کا صاحبِ مال کل کنگال اور آج کا کنگال کل مالامال ہوسکتا ہے ،توپھر مالِ حرام جیسی ناپائیدارشے کی وجہ سے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کو کیوں ناراض کیاجائے!اس لئے ہمیں چاہئے کہ آج اور ابھی اپنے مال واَسباب پر غور کرلیں کہ خدانخواستہ کہیں اس میں حرام تو شامل نہیں،اگرایسا ہو توہاتھوں ہاتھ توبہ کریں اورمالِ حرام سے جان چھڑا لیں اور اگر حرام مال خرچ ہوچکا ہے تو بھی توبہ کیجئے اور درجِ ذیل طریقے پر عمل کیجئے۔