تصنیف کی ہے ، پوچھا : وہ کونسی ؟ فرمایا : ’’کِتَابُ الْبَیْع‘‘ (وہ کتاب جس میں خرید و فروخت کے متعلق مسائل موجود ہوں)کیونکہ جسے اپنی خرید و فروخت کے جائز و ناجائز ہونے کا علم نہیں ہوگا وہ حرام مال کھائے گا ، اور جو حرام کھائے اس کی اصلاح کبھی نہیں ہوسکتی ۔
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الرقاق ، ۹/۱۳۳، تحت الحدیث :۵۲۸۳)
حرام کے ایک درہم کا اثر
حضرت سیدنا عبداللّٰہ بن عمررضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فرماتے ہیں:جس نے 10 درہم کا کپڑا خریدا اور اس میں ایک درہم حرام کا تھا تو جب تک وہ لباس اس کے بدن پر رہے گا اللّٰہعَزَّوَجَلَّ اس کی کوئی نماز قبول نہیں فرمائے گا۔پھر آپ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال کر ارشاد فرمایا:اگر میں نے یہ بات تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمسے نہ سنی ہو تو میرے کان بہرے ہو جائیں۔(مسند احمد،۲/۴۱۶، حدیث:۵۷۳۶)
دُعاقبول نہ ہونے کاسبب(حکایت:32)
ایک مرتبہ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کسی مقام سے گزرے تودیکھاکہ ایک شخص ہاتھ اٹھائے رو رو کر بڑے رِقَّت انگیز انداز میں مصروفِ دعا تھا۔ حضرت سیِّدُنا موسیٰ کلیم اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسے دیکھتے رہے پھربارگاہِ خداوندی میں عَرْض گزار ہوئے: اے میرے رحیم وکریم پروردگار! عَزَّوَجَلَّ تُو اپنے اس بندے کی دعا کیوں نہیں قبول کررہا؟ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے