جَوتِشیوں سے ہاتھ دکھا کر تقدیر کا بھلا بُرا دریافت کرنا اگر بطورِ اِعتقاد ہو یعنی جو یہ بتائیں حق ہے تو کفرِخالص ہے ،اسی کو حدیث میں فرمایا: فَقَدْ کَفَرَ بِمَانُزِّلَ عَلٰی مُحَمَّد یعنی اس نے محمدصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلّم پر نازل ہونے والی شے کا انکار کیااور اگر بطورِ اِعتِقاد وتَیَقُّن (یعنی یقین رکھنے کے)نہ ہو مگر مَیل ورَغبت کے ساتھ ہو تو گناہِ کبیرہ ہے ،اسی کو حدیث میں فرمایا : لَمْ یَقْبَلِ اﷲُ لَہُ صَلٰوۃَ اَرْبَعِیْنَ صَبَاحًااللہ تعالیٰ چالیس دن تک اس کی نماز قبول نہ فرمائیگا،اور اگر بطور ہَزْل واِستہزاء (یعنی ہنسی مذاق کے طور پر)ہو توعَبَث(یعنی بے کار) ومکروہ وحماقت ہے ، ہاں! اگر بقصدِتَعْجِیْز(یعنی اسے عاجز کرنے کے لئے )ہو تو حَرَج نہیں ۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۱۵۵)
(25) شوہر کی ناشکری کرنا
سرورِ کائنات،شاہِ موجوداتصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا:اِذَا قَالَتِ الْمَرْأَۃُ لِزَوْجِہَا مَا رَ أَ یْتُ مِنْکَ خَیْراً قَطُّ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُہَا یعنی جب کوئی عورت اپنے شوہر سے کہے کہ میں نے کبھی تم سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی تو اس کا عمل برباد ہوگیا۔(جمع الجوامع، ۱/۲۲۹، حدیث:۱۶۳۷)
حضرت علامہ عبدالر ء ُوف مناوی شافعی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں:یعنی اگر کوئی عورت ان احسانات کو جھٹلائے جو اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے شوہر کے ذریعے اس پر فرمائے ہیں تواس کی سزا میں اس کے عمل باطل ہوجائیں گے یعنی وہ ان کے ثواب سے محروم ہوجائے گی مگر یہ کہ وہ اپنی اس بات سے