حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :اسے (یعنی نجومی کو)سچا سمجھ کر اس سے آیندہ غیبی خبریں پوچھنے کے لیے گیا اس کی وہ سزا ہے جو یہاں مذکور ہے لیکن اگر کوئی اسے جھوٹا سمجھ کر لوگوں کو اس کا جھوٹ ظاہر کرنے کے لیے اس کے پاس گیا اس سے کچھ پوچھا تاکہ اس کی جھوٹی خبر لوگوں کو سنادے اس کی یہ سزانہیں۔
(’’چالیس شب کی نمازیں قبول نہ ہوں گی‘‘کے تحت مفتی صاحب لکھتے ہیں)یعنی اس کی یہ نمازیں ادا ہوجائیں گی اللّٰہ کے ہاں ان کا ثواب نہ ملے گا جیسے غصب شدہ زمین میں نماز کہ اگرچہ ادا تو ہوجاتی ہے مگر اس پر ثواب نہیں ملتا لہٰذا ان نمازوں کا لوٹانا اس پر لازم نہیں ۔خیال رہے کہ نیکیوں سے گناہ تو معاف ہوجاتے ہیں مگر گناہوں سے نیکیاں برباد نہیں ہوتیں وہ تو صرف اِرتداد سے برباد ہوتیں ہیں(مرقات)اور جب نمازیں ہی قبول نہ ہوئیں تو دوسری عبادتیں بھی قبول نہ ہوں گی بعض شارحین نے فرمایا کہ چالیس راتوں کی نمازیں سے مراد تہجد کی نمازیں ہیں۔فرائض و واجبات قبول ہوجائیں گے مگر حق یہ ہے راتوں سے مراد دن و رات سب ہیں اورکوئی نماز قبول نہیں ہوتی (اشعہ) دوسری حدیث میں ہے کہ ایسے شخص کی چالیس دن تک توبہ قبول نہیں ہوتی بہرحال نجومیوں سے غیب کی خبریں پوچھنا بدترین گناہ ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۶/۲۷۰)
نجومی کو ہاتھ دکھانا کیسا؟
امامِ اہلسنّت مولانا احمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں :کاہِنوں اور