کے لیے کُتا پالنا جائز ہے اور یہ مقاصد نہ ہوں تو پالنا ناجائزاور جس صورت میں پالنا جائز ہے اُس میں بھی مکان کے اندر نہ رکھے البتہ اگر چور یا دشمن کا خوف ہے تو مکان کے اندر بھی رکھ سکتا ہے۔(بہار شریعت،۲/۸۰۹)
لڑانے یا دوڑانے کے لئے کتا نہ پالا جائے
شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا عبدالمصطَفٰے اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القوی لکھتے ہیں:شکار کرنے کیلئے، کھیتی کی حفاظت کیلئے، مویشیوں کی حفاظت کیلئے(اور) مکان کی حفاظت کیلئے ان چار مقصدوں کیلئے کتا پالنا جائز ہے۔ باقی ان کے سوا مثلاً کھیلنے کیلئے، دل بستگی اور تفریح کیلئے ،لڑانے یا دوڑانے کے لئے یا کسی اور کام کیلئے کتا پالنا ناجائز و ممنوع ہے۔ (جہنم کے خطرات ، ص۱۸۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(23)آپس کا فساد
سرکارِ مدینہ ، قرارِ قلب وسینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشادفرمایا: آپس کے فساد سے بچو کیونکہ یہ مُونڈ دینے والی چیز ہے۔(ترمذی،کتاب صفۃ القیامۃ،باب:۵۶، ۴/۲۲۸،حدیث:۲۵۱۶)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :ذَاتَ بَیْن کے معنی آپس والی چیز،سُوْء کے معنی برائی