پالے تو روزانہ اس کے عمل سے دو قیراط کم ہوں گے۔(بخاری،کتاب الذبائح ۔۔۔الخ،باب من اقتنی کلبا۔۔۔الخ،۳/۵۵۱،حدیث:۵۴۸۰)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں :عمل سے مراد نیک اعمال کا ثواب ہے نہ کہ اصل عمل کیونکہ مذہبِ اہل سنت یہ ہے کہ کسی گناہ کی وجہ سے نیکی برباد نہیں ہوتی نیکیاں صرف کفر سے برباد ہوتی ہیں اور کتا پالنا گناہ ہے کفر نہیں۔مطلب یہ ہے کہ نیکیوں کا جو ثواب کتا نہ پالنے والے کو ملتا ہے وہ کتا پالنے والے کو نہیں ملتا،اس کمی کی وجہ یہ ہے کہ ایسے کتے سے رحمت کے فرشتے گھر میں نہیں آتے یا اس لئے کہ کتے سے لوگوں کو تکلیف پہنچتی ہے یا اس لئے کہ کتے والے گھر کے برتن اور کپڑے مشکوک ہوتے ہیں کہ کبھی کتا یہ چیزیں چاٹ لیتا ہے گھر والوں کو خبر نہیں ہوتی لہٰذا جتنی یقینی پاکی وطہارت بغیر کتے والے گھر میں ہوتی ہے ایسی طہارت کتے والے گھر میں نہیں ہوتی یہ تحقیق ضرور خیال میں رکھی جائے۔(مرقات)مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں:قیراط ایک خاص وزن کا نام ہے،یہاں قیراط فرمانا سمجھانے کے لئے ہے ورنہ ثوابِ اعمال یہاں کے باٹوں سے نہیں تولا جاتا۔(مراٰۃ المناجیح،۵/۶۵۶)
کتا پالنا کب جائز ہے؟
صَدرُ الشَّریعہ،بدرُ الطَّریقہحضرتِ علّامہ مولانامفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃُ اللّٰہِ القویلکھتے ہیں:جانور یازراعت یاکھیتی یا مکان کی حفاظت کے لئے یا شکار