اپنی بُرائیاں یاد کر لِیا کرو
حضرت سیِّدُنا عبدُاللّٰہ بن عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کا فرمان ہے:اِذَا اَرَدْتَ اَنْ تَذْکُرَ عُیُوْبَ صَاحِبِکَ فَاذْکُرْ عُیُوبَکَ جب تم اپنے ساتھی کی بُرائیاں بیان کرنا چاہو تو اپنی بُرائیاں یاد کر لِیا کرو۔(الموسوعۃ لابن ابی الدنیا،باب الغیبۃ و ذمہا، ۷؍۱۳۶ ، رقم:۱۹۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(21) تعریف کی خواہش
سرکارِ عالی وقار، مدینے کے تاجدارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکا فرمانِ نصیحت نشان ہے: اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طاعت کو بندوں کی طرف سے کی جانے والی تعریف کی محبت سے ملانے سے بچتے رہو،کہیں تمہارے اعمال برباد نہ ہو جائیں۔
(فردوس الاخبار،۱/۲۲۳،حدیث:۱۵۶۷)
ایک سوال کے 2جواب!(حکایت:28)
حضرتِ سیِّدُنا طاہر بن حسین رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہ نے ایک مرتبہ کسی سے پوچھا: آپ کو عراق آئے کتنا عرصہ ہوگیا ہے ؟ جواب دیا : میں بیس سال سے عراق میں ہوں اور تیس سال سے روزے رکھ رہا ہوں ، فرمایا : میں نے آپ سے ایک سوال پوچھا تھا آپ نے جواب دو دئیے ! (یعنی یہی کافی تھا کہ آپ عراق میں اتنے عرصے سے ہیں ، روزے کا ذکر کس لئے کردیا؟) (ادب الدنیا والدین،ص ۸۶)