Brailvi Books

نیکیاں برباد ہونے سے بچائیے
80 - 100
ثواب ضائع ہونے کا سبب ہے اس لئے علماء کی ایک جماعت تمام لوگوں کی غیبت سے اجتناب کرتی تھی یہاں تک کہ حضرت سیدنا عبدُاللّٰہ بن مبارک  رحمۃُ اللّٰہ تعالٰی علیہنے ارشاد فرمایا:اگر میں کسی کی غیبت کرتا تو اپنے والدین کی کرتا کیونکہ وہ دونوں تمام لوگوں سے زیادہ میری نیکیوں کے حقدار ہیں۔(شرح ابن بطال،کتاب الادب،باب الغیبۃ،۹/۲۴۵)
میری نیکیاں کہاں گئیں؟
	 رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:بے شک قیامت کے روزانسان کے پاس اس کا کھلا ہو انامہ اعمال لایا جائے گا ، وہ کہے گا:میں نے جو فُلاں فُلاں نیکیاں کی تھیں وہ کہاں گئیں؟ کہا جائیگا:تُو نے جو غیبتیں کی تھیں اس وجہ سے مٹا دی گئی ہیں۔(اَلتَّرغِیب وَالتَّرہِیب،کتاب الادب،الترہیب من الغیبۃ۔۔۔الخ، ۳/۴۰۶،حدیث:۴۳۶۴)
مال دینے میں بخیل مگر نیکیاں لٹانے میں سخی!
	حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن ادہم علیہ رَحمَۃُ اللّٰہِ الاکرم غیبت کرنے والے کی سَرزَنِش کرتے (یعنی ڈانٹ پلاتے )ہوئے فرماتے ہیں:اے جھوٹے انسان!تُو اپنے دوستوں کو دنیا کا حقیر مال دینے سے توبُخْل کر تا رہا مگر آخِرت کا مال (یعنی نیکیوں کا خزانہ)تونے اپنے دشمنوں پر لُٹا دیا!نہ تیرا دُنیوی بُخْل قابلِ قُبول نہ غیبتیں کر کرکے نیکیاں لُٹانے والی سخاوت مقبول۔(تَنبِیہُ الْغافِلین، ص۸۷)